خلیجی ملک بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں ممالک کو آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے “تمام ضروری اقدامات” کرنے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے، جسے سفارتی زبان میں طاقت کے استعمال کی اجازت سمجھا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس مسودے کو دیگر خلیجی عرب ممالک اور امریکا کی حمایت حاصل ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روس اور چین کی ویٹو طاقت کے باعث یہ قرارداد منظور نہیں ہو سکے گی۔
ادھر فرانس نے اسی معاملے پر ایک متبادل اور نسبتاً نرم مؤقف پر مبنی قرارداد پیش کی ہے، جس میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں اس خدشے میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو مسلسل خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اپنے ذریعے منتقل کرتی ہے اور خلیجی معیشتوں کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایرانی حملوں کے باعث اس راستے سے جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے، جبکہ ایران ماضی میں بھی اس آبنائے کو بند کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔
بحرین کے مسودہ قرارداد میں ایران کی کارروائیوں کو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران فوری طور پر تجارتی اور مال بردار جہازوں پر حملے بند کرے اور آزادانہ جہاز رانی میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
اس مسودے کے تحت ممالک کو انفرادی یا مشترکہ بحری اتحاد کے ذریعے آبنائے ہرمز اور اس کے ساحلی ممالک کے علاقائی پانیوں میں کارروائی کی اجازت دی جا سکتی ہے تاکہ جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اس میں ہدفی پابندیوں سمیت دیگر اقدامات کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
یہ قرارداد اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ہفتم کے تحت پیش کی گئی ہے، جس کے تحت پابندیوں سے لے کر فوجی کارروائی تک کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں اس قرارداد کی منظوری کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین ممکنہ طور پر اسے ویٹو کر سکتے ہیں۔
فرانس کی جانب سے پیش کردہ متبادل قرارداد میں ایران کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا اور اس میں کسی فوجی کارروائی کی اجازت دینے کے بجائے تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے، خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں جاری تنازع ختم کرنے اور سفارتکاری کی طرف واپس آنے کی اپیل کی گئی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی بین الاقوامی کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کا فریم ورک ضروری ہے اور ایسے اقدامات اسی وقت ممکن ہیں جب کشیدگی کم ہو اور ایران کی رضامندی حاصل ہو۔
دریں اثنا امریکی حکام کے مطابق تقریباً 2500 میرینز، یو ایس ایس باکسر نامی جنگی جہاز اور دیگر بحری جہازوں کو خطے میں تعینات کیا جا رہا ہے، تاہم ان کے کردار کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ بعض ذرائع کے مطابق ایران کے ساحلی علاقوں یا خارگ آئل ٹرمینل ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
