حکومت پاکستان نے اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین ایندھن کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ فیصلہ ہائی آکٹین ایندھن پر پٹرولیم لیوی میں فی لیٹر دو سو روپے اضافے کے بعد کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق کسی بھی سرکاری ادارے کو سرکاری خرچ پر ہائی آکٹین ایندھن استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اگر کسی صورت اس ایندھن کا استعمال ناگزیر ہو تو اس کی ادائیگی متعلقہ افسر یا صارف کو ذاتی طور پر کرنا ہو گی۔
لاہور: 23 مارچ 2026
ہائی اوکٹین فیول پر پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے فیصلے کے تسلسل میں وزیر اعظم نے ایک اور اہم فیصلہ کیا ہے.
وزیرِ اعظم نے کہا کہ سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین ایندھن کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس پابندی کا اطلاق فی الفور ہو گا۔ اگر کسی بھی سرکاری…
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) March 23, 2026
یہ اقدام حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے وسیع تر کفایت شعاری اقدامات کا حصہ ہے، جن کا مقصد سرکاری اخراجات میں کمی لانا ہے۔
اس سے قبل حکومت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں پچاس فیصد کمی اور تقریباً ساٹھ فیصد گاڑیوں کو محدود کرنے کا اعلان بھی کر چکی ہے۔
تمام وفاقی وزارتوں، اداروں اور ذیلی محکموں کو نئی پالیسی پر فوری اور مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اس سے قبل بھی توانائی بچت اور کفایت شعاری کے متعدد اقدامات کا اعلان کر چکے ہیں، جن میں سرکاری دفاتر کیلئے چار روزہ ورک ویک کی تجویز بھی شامل ہے۔
ادھر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، جہاں ایک جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، وہیں دوسری جانب ایرانی تیل کی ممکنہ فراہمی نے مارکیٹ پر اثر ڈالا ہے۔
