آتشزدگی سے متاثرہ گل پلازہ میں دوبارہ آگ لگ گئی،فائر بریگیڈ کی کوششوں سے بیسمنٹ میں لگی آگ پر چند گھنٹوں بعد قابو پالیا گیا۔
چیف فائر آفیسر کے ایم سی ہمایوں خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کے بیسمنٹ سے دھویں کے اخراج کا راستہ نہیں جس کے باعث ابتداء میں مشکلات کا سامنا رہا۔
سانحہ گل پلازہ پیپلز پارٹی کی بدترین کارکردگی کی مثال ہے،فاروق ستار
پونے چھ بجے گل پلازہ کی عمارت سے دھواں نکلنے کی اطلاع ملی،ٹیمیں بروقت پہنچی اور فائر فائٹنگ کا عمل شروع کیا،بیسمنٹ کا بڑا حصہ اور دکانیں گزشتہ آتشزدگی واقعے میں محفوظ رہی تھیں۔
شبہ ہے کہ ان ہی دکانوں اور اندر موجود کباڑ و کچرے میں آگ لگی ہے،اسموگ ایجکٹر کی مدد سے دھواں باہر نکال دیا ہے،آگ لگنے کی اصل وجوہات کا تحقیقات کے دوران معلوم ہوسکے گا۔
دوسری جانب ڈی سی امیر فضل اویسی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں آگ ممکنہ طور پر نشے کے عادی افراد نے لگائی،فائر بریگیڈ اور پولیس پہنچی تو متعدد نشے کے عادی افراد عمارت میں موجود تھے۔نشے کے عادی افراد تاریں اور دیگر سامان چوری کرنے کی غرض سے اندر گئے تھے۔
سانحہ گل پلازہ؛ دو بچوں نے دوران بیان بتایا وہ ماچس سے کھیل رہے تھے جس سے آگ لگی، ایس ایس پی سٹی
گل پلازہ منجمنٹ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ سازش نہیں ہے،پولیس نے تین نشئی افراد کو حراست میں لیا ہے۔
آگ ممکنہ طور پر نشئی افراد کی جانب سے کاپر جلانے کے سبب لگی،گل پلازہ سیل ہے عید کے موقع پر نشئی افراد اندر داخل ہوئے،آئندہ ہفتے گل پلازہ کی تباہ حال عمارت کو مسمار کرنے کا عمل شروع ہوگا۔
