ہائی اوکٹین (high octane)کے ایک لیٹرپر پیٹرولیم لیوی میں 200 روپے اضافہ کردیا گیا ہے۔موجودہ لیوی 100 روپے فی لیٹر تھی۔
تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وڈیو لنک اجلاس میں امیر ترین طبقے کے زیر استعمال پر تعیش (لگژری) گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی اوکٹین فیول کے حوالےسے اہم فیصلہ کیا گیا۔
حکومت نے مشکل صورتحال میں دانشمندانہ فیصلے کیے، وفاقی وزیر پیٹرولیم
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے نوٹس لیا کہ مہنگی ترین گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی اوکٹین فیول پر لیوی بڑھنی چاہیے،وزیراعظم نے امیر ترین طبقے کے زیر استعمال پر تعیش (لگژری) گاڑیوں پر موجودہ لیوی جو کہ 100 روپے فی لیٹر ہے، اس میں 200 روپے مزید فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کر دیا۔
مہنگی ترین گاڑیوں میں ڈلنے والے ہائی اوکٹین فیول پر اب سے 300 روپے فی لیٹر لیوی کا اطلاق ہو گا۔فیصلے سے حکومت کو 9 ارب روپے ماہانہ بچت ہو گی اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق عوام کو اس بچت سے ریلیف دیا جائے گا۔
وزیراعظم کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
فیصلے سے معیشت پر بوجھ کم ہو گا؛ ملک کا امیر ترین طبقہ بوجھ اٹھائے گا،جہاں نچلے اور درمیانے طبقے کے زیر استعمال عام گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئی وہیں صرف لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول کی قیمت بڑھائی گئی ہے۔
فیصلے سے پبلک ٹرانسپورٹ اور ہوائی جہازوں کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا،واضح رہے ہائی اوکٹین کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم نے نوٹس لیا تھا اور متعلقہ وزارت کو اس حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔
