قطری وزارت داخلہ(Qatar Interior Ministry) نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ ملک کی علاقائی سمندری حدود میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے میں لاپتہ ہونے والے 7 افراد میں سے 6 کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کی مسلسل کارروائیوں کے دوران ہیلی کاپٹر میں سوار 6 افراد کو تلاش کر لیا گیا، تاہم ان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق بھی کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق باقی ایک لاپتہ شخص کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔
قطری ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ
بیان میں حادثے کی وجوہات یا ہلاک ہونے والوں کی شناخت سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل قطری وزارت دفاع(Qatar Defense Ministry )نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز پر تھا کہ اسے اچانک تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث وہ سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق حادثہ کسی دشمن کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔قطر(Qatar) کو حالیہ ہفتوں میں ایران (Iran) کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا رہا ہے، جو کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئے۔
دوحہ دھماکے کے بعد قطر حکومت کا کچھ علاقوں کو عارضی خالی کرانے کا اعلان
رپورٹس کے مطابق قطر کے اہم صنعتی علاقے Ras Laffan Industrial City کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا، جو دنیا کے بڑے ایل این جی پیداواری مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جبکہ لاپتہ شخص کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
