افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران سخت سزاؤں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں ایک سال کے دوران کم از کم 1186 افراد کو کوڑے مارے گئے جبکہ 6 افراد کو سرعام سزائے موت دی گئی۔ یہ اعداد و شمار طالبان کی سپریم کورٹ کے بیانات اور مقامی میڈیا کی رپورٹس پر مبنی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ سزائیں ملک کے مختلف صوبوں میں دی گئیں جن میں کابل، ہرات، بلخ، قندھار، ننگرہار، خوست، بدخشاں اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کچھ عرصے کے اعداد و شمار مکمل طور پر دستیاب نہیں۔
افغان طالبان کو پاکستان کیخلاف ڈرون بھارت فراہم کر رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
طالبان عدالتوں کے بیانات کے مطابق سال کے آخری مہینوں میں ان سزاؤں میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ خواتین بھی اس عمل سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آٹھ ماہ کے دوران تقریباً 100 خواتین کو بھی کوڑے مارے گئے، جن میں سے کئی سزائیں عوامی مقامات پر دی گئیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی سزائیں نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ معاشرے میں خوف کی فضا کو بھی بڑھا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے محقق عبدالاحد فرزام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات طویل المدتی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال کے دوران قصاص کے اصول کے تحت سرعام سزائے موت بھی دی گئی۔ حالیہ واقعے میں خوست کے ایک اسٹیڈیم میں ہزاروں افراد کے سامنے ایک شخص کو پھانسی دی گئی، جس میں بچے بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ بدغیس میں تین جبکہ فراہ اور نیمروز میں ایک ایک شخص کو سزائے موت دی گئی۔
طالبان رجیم کو پاکستان یادہشتگردوں میں سے کسی ایک کاانتخاب کرناہوگا،عطاتارڑ
طالبان حکومت نے اس دوران ایک نیا تعزیری قانون بھی متعارف کرایا جس پر عالمی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون میں شفاف عدالتی عمل اور بنیادی حقوق کا فقدان ہے۔
دوسری جانب طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ یہ سزائیں اسلامی شریعت کے مطابق دی جا رہی ہیں۔ تاہم بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات افغانستان کو مزید تنہائی کی طرف لے جا رہے ہیں اور شہری آزادیوں پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔
