صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا تشویشناک ہے۔
عالمی یومِ آب کے موقع پر صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کی کمی کا اثر سب پر یکساں نہیں ہوتا۔
صدر مملکت نے کہا کہ محفوظ پانی کی عدم دستیابی سے خواتین، خصوصاً بچیاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں جبکہ کئی علاقوں میں اب بھی گھروں کا انحصار دور دراز یا غیر مستحکم پانی کے ذرائع پر ہے۔ انہوں نے محفوظ اور قابلِ اعتماد پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنانے پر زور دیا۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ آبی نظام میں سرمایہ کاری، مؤثر منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے زیرِ زمین آبی ذخائر کو بحال کرنے اور پانی کی سطح بلند کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پانی پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے ہمیں پانی کا استعمال زیادہ ذمہ داری سے کرنا ہوگا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے معاہدہ سندھ طاس کی یکطرفہ معطلی پر بھارت کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی معاہدے کی روح اور متن دونوں کی خلاف ورزی ہے۔
شہباز شریف کی تھائی لینڈ کے وزیراعظم انوتن چرنویراکول کو دوبارہ عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد
صدر نے کہا کہ طے شدہ طریقہ کار میں رکاوٹ ڈالنا بھی معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جبکہ سندھ طاس معاہدہ دریائے سندھ کے نظام کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات لاکھوں افراد کے روزگار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
آخر میں صدر آصف علی زرداری نے مطالبہ کیا کہ بھارت معاہدے پر مکمل عملدرآمد بحال کرے۔
