سری لنکا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا گیا۔
کولمبو میں سری لنکا کی سرکاری آئل کمپنی سیلون پیٹرولیم کارپوریشن نے ہفتہ کی رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا۔
اعلامیے کے مطابق آٹو ڈیزل، پیٹرول اور مٹی کے تیل سمیت تمام مصنوعات کی قیمتوں میں 60 سے 90 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا گیا ہے۔ ملک کی ایک اور بڑی آئل کمپنی لنکا آئی او سی نے بھی نئی قیمتوں کے مطابق نرخ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ تیسرا بڑا اضافہ ہے، اس سے قبل 28 فروری اور 9 مارچ کو بھی قیمتیں بڑھائی گئی تھیں۔ حالیہ اضافے کے بعد آٹو ڈیزل کی قیمت 382 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جو پہلے 281 روپے فی لیٹر تھی۔
سیلون پیٹرولیم کارپوریشن نے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے وائٹ ڈیزل کی قیمت 26.1 فیصد بڑھا کر 382 روپے، سپر ڈیزل 25.5 فیصد بڑھا کر 443 روپے، مٹی کا تیل 20.8 فیصد بڑھا کر 255 روپے، آکٹین 95 کی قیمت 24.7 فیصد بڑھا کر 455 روپے اور آکٹین 92 کی قیمت 25.6 فیصد بڑھا کر 398 روپے فی لیٹر مقرر کی ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ لنکا پرائیویٹ بس اونرز ایسوسی ایشن کے مطابق اتوار کو تقریباً 90 فیصد نجی بسیں سڑکوں سے غائب رہنے کا امکان ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر گیمونو وجیراتنے کا کہنا ہے کہ بس مالکان نے ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ موجودہ کرایے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
دو دن میں سونے کی قیمت میں تاریخی کمی
ادھر نیشنل ٹرانسپورٹ کمیشن نے بھی اعلان کیا ہے کہ 22 مارچ کو بس کرایوں میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے حساب کتاب جاری ہے۔
بس مالکان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایندھن کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ ہوا، لیکن اس کے مطابق کرایوں میں ایڈجسٹمنٹ نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز دی گئی تھی لیکن انہوں نے تجویز رد کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔
