خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں، خصوصاً باجوڑ اور لوئردیر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔
عینی شاہدین کے مطابق زلزلے کے جھٹکے اچانک محسوس ہوئے جس کے بعد کئی سیکنڈ تک زمین لرزتی رہی۔ جھٹکوں کی شدت کے باعث گھروں، دفاتر اور دکانوں میں موجود افراد فوری طور پر کھلی جگہوں کی جانب نکل آئے۔ بعض علاقوں میں لوگ سڑکوں پر جمع ہو گئے اور کافی دیر تک واپس گھروں میں جانے سے گریز کرتے رہے۔
تین دن میں بڑی تباہی، ہالینڈ کے زلزلہ پیما ماہر کی بڑی پیشگوئی
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے باجوڑ، لوئردیراور گرد و نواح کے دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ کر دیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زلزلہ ایک قدرتی عمل ہے اور اس نوعیت کے جھٹکے وقتاً فوقتاً محسوس کیے جاتے ہیں، تاہم شہریوں کو چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
دوسری جانب زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت اور مرکز کے حوالے سے تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں، جنہیں جلد جاری کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں، تاہم متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔
خاران اور گرد و نواح میں 3.6 شدت کا زلزلہ
یاد رہے کہ پاکستان کے مختلف علاقے زلزلہ خیز پٹی میں واقع ہیں جہاں وقتاً فوقتاً زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں، جس کے باعث عوام میں خوف کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
