وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت سولرائزیشن کے خلاف نہیں، منصفانہ اور متوازن سولر پالیسی کی حامی ہے،غیر منظم روف ٹاپ سولر سے گرڈ اسٹیبلٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں،رات کے وقت بجلی کیلئے گیس اور دیگر مستحکم ذرائع ضروری ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قطر سے ایل این جی سپلائی متاثر ہوئی، طلب میں مینجمنٹ ناگزیر ہے،لغاریکھاد سیکٹر کو گیس کی فراہمی ترجیح رہے گی،کمرشل اور ہائی اینڈ صارفین پر عارضی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
قطر نے ایل این جی معاہدوں سے معذرت کرلی، سپلائی تعطل کا خدشہ
مکمل طور پر کوئلے پر انحصار ممکن نہیں،گیس پلانٹس گرڈ کیلئے ضروری ہیں،کوئلہ بیس لوڈ جبکہ گیس پلانٹس لچکدار بجلی فراہم کرتے ہیں،کیپٹو پاور لیوی کے بعد صنعتی صارفین کی گرڈ پر واپسی ہوئی۔قومی گرڈ پر صارفین کی واپسی سے بجلی طلب میں اضافہ ہوا۔
سرپلس پاور پیکج سے صنعتوں کو 12 ارب روپے سے زائد بچت ہوئی،جنوری 2026 میں بجلی کی طلب میں 12.1 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا،ایل این جی بحران کے باوجود پاکستان کا پاور سسٹم مستحکم ہے۔
آر ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
حکومت توانائی اصلاحات، نجکاری اور تھرڈ پارٹی ایکسس پر کام کر رہی ہے،صارفین کو سولر اور کلین انرجی لگانے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے،حکومت کی ترجیح توانائی سیکیورٹی، سسٹم اسٹیبلٹی اور معیشت کا تسلسل ہے۔
