تہران (Tehran) میں حکام نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور نقد رقم کی قلت پر قابو پانے کے لیے 10 ملین ریال (ایک کروڑ ریال)کا نیا بینک نوٹ جاری کر دیا ہے، جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا کرنسی نوٹ ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق بینکوں نے اس ہفتے نئے گلابی رنگ کے نوٹ کی فراہمی شروع کر دی ہے، جس کی مالیت تقریباً 7 امریکی ڈالر بنتی ہے۔ تاہم شہریوں کی بڑی تعداد کی جانب سے اے ٹی ایمز سے رقم نکلوانے کے لیے طویل قطاریں دیکھی گئیں، جبکہ کئی مقامات پر کیش جلد ختم ہو گیا۔
ایران کا اسرائیلی ایف 16 طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
نئے نوٹ پر تاریخی ورثے کی عکاسی کی گئی ہے، جس کے ایک جانب Jameh Mosque of Yazd جبکہ دوسری جانب Bam Citadel کی تصاویر شامل ہیں۔ یہ نوٹ فروری میں جاری کیے گئے 5 ملین ریال کے نوٹ سے بھی بڑا ہے۔
ایران کے مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عوام کو نقد رقم تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے، جبکہ ڈیجیٹل بینکاری نظام بدستور مالی لین دین کا بنیادی ذریعہ رہے گا۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں، جہاں بینک صارفین کو محدود رقم فراہم کر رہے ہیں۔
80 سالہ شہری مریم کے مطابق انہیں ایک گھنٹے انتظار کے بعد صرف 10 ملین ریال دیے گئے، تاہم احتجاج کے بعد انہیں 30 ملین ریال مل سکے، جو ان کے بقول چند دنوں کے اخراجات کے لیے ہی کافی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی معیشت پہلے ہی امریکی پابندیوں، کم ہوتی تیل آمدن، بدعنوانی اور مسلسل مہنگائی کے باعث دباؤ کا شکار تھی، جبکہ حالیہ US-Israel war نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایران نے جاپان کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت دے دی
حالیہ حملوں میں اہم انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں Bank Sepah کی عمارت پر میزائل حملہ بھی شامل ہے، جس سے عوامی خدشات میں اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 47.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں 105 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
امریکا نے ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوٹوں کی بڑی مالیت کا اجرا دراصل کرنسی کی قدر میں کمی اور مہنگائی کے شدید دباؤ کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ عوام نقد رقم کے حصول کے لیے بدستور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
