عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں جمعہ کی رات سے شروع ہونے والی گراوٹ ہفتہ کے روز بھی جاری رہی، جس کے باعث قیمتی دھات گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی ہفتہ وار کمی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطابق سونے کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران تقریباً 10 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ 1983 کے بعد سب سے بڑی گراوٹ تصور کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ موازنہ قیمت کی سطح نہیں بلکہ کمی کی شدت کے لحاظ سے کیا جا رہا ہے، کیونکہ ایک ہفتے میں اس قدر بڑی کمی نہایت غیر معمولی ہے۔
جنگ کے اثرات، سونا رعایتی قیمت پر فروخت ہونے لگا
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سونے کے فیوچر کی قیمت میں ایک فیصد کمی ہوئی اور یہ 4 ہزار 570 ڈالر فی اونس تک گر گیا، جبکہ اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 4 ہزار 560.45 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اس نمایاں کمی کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور شرح سود میں ممکنہ اضافے کے خدشات ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے مہنگائی میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافے کی توقع کے باعث سرمایہ کار اب ایسے اثاثوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو منافع فراہم کرتے ہیں،مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے بھی مارکیٹ کے رجحان کو متاثر کیا ہے، تاہم اس کے باوجود سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کی خریداری میں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت میں اضافہ، سونا بھی مہنگا ہو گیا
تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار فی الحال محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور مارکیٹ میں واضح اشاروں کے انتظار میں ہیں، جس کے بعد ہی سونے میں دوبارہ سرمایہ کاری کا رجحان سامنے آ سکتا ہے۔
