امریکا نے ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ نئے لائسنس کے تحت جہازوں پر لوڈ تیل کی فروخت کی اجازت ہوگی، نیا لائسنس ایک ماہ تک فعال رہے گا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے اس بیان کے بعد ایران نے ردعمل کے طور پر کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں فروخت کرنے کیلئے کوئی تیل نہیں ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مستحکم، سپلائی متاثر ہونے پر اضافے کا خدشہ
ایران کے مطابق امریکا کا یہ فیصلہ تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے نفسیاتی حربہ ہے، واضح رہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کیلئے ایرانی تیل تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کو قبضے میں لینے جیسے آپشنز بھی زیر غور ہیں۔
