صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی آپریشنز کو ختم کرنے پر غور کررہے ہیں، امریکی صدر نے کہا کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اہداف کے حصول کے قریب ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کی میزائل صلاحیت، لانچرز اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا اہم اہداف میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو کمزور کرنا بھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قریب نہیں آنے دے گا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
"We are getting very close to meeting our objectives as we consider winding down our great Military efforts in the Middle East with respect to the Terrorist Regime of Iran…" – President Donald J. Trump pic.twitter.com/YBG9l492Kf
— The White House (@WhiteHouse) March 20, 2026
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ اپنے اتحادی ممالک جیسے اسرائیل، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا جبکہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ نے امریکا سمیت ایران جنگ میں شامل ممالک کو اسلحے کی فراہمی معطل کر دی
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا اپنے اتحادیوں کی مدد کرے گا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی زیادہ پیچیدہ نہیں ہوگی اور اہداف کے حصول کے بعد صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا۔
