ایران نے اسرائیل میں حیفہ میں آئل ریفائنری پرحملہ کر دیا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر تازہ میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے جن میں حیفہ کی آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حیفہ شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان حملوں میں اشدوداورحیفہ آئل ریفائنریز پر پہلی بار ملٹی وارہیڈنصراللہ میزائل کا استعمال کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ خیبر شکن، عماد اور حاج قاسم میزائل بھی استعمال کیے گئے، دعویٰ کیا گیا ہے کہ تل ابیب سمیت اسرائیل کے وسطی اور جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر خطے کے دیگر ممالک میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب کے شہر ينبع کے قریب واقع ریفائنری پر حملے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ابوظہبی میں میزائلوں کا ملبہ گرنے سے گیس تنصیبات متاثر ہوئیں اور کام روکنا پڑا۔
اسی طرح قطر کے راس لفان گیس فیلڈ میں حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا جبکہ کویت میں دو آئل ریفائنریوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔
حملے میں امریکا کا کوئی ہاتھ نہیں، یہ اسرائیل کا انفرادی اقدام ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
یہ حملے مبینہ طور پر ایران کے پارس گیس فیلڈ پر حملے کے ردعمل میں کیے گئے ہیں، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے اور توانائی کی عالمی سپلائی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
