سائبر سیکیورٹی ماہرین نے ایک خطرناک نئے اسپائی ویئر ڈارکسورڈ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ جو لاکھوں آئی فون صارفین کی نجی معلومات اور ڈیجیٹل اثاثوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کمپنیوں گوگل، لک آؤٹ اور آئی ویریفائی کے مشترکہ تجزیے کے مطابق یہ جدید اسپائی ویئر حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی متعدد ویب سائٹس پر نصب پایا گیا۔ جہاں سے صارفین کے آئی فونز کو ہدف بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق ڈارکسورڈ خاص طور پر ان آئی فونز کو نشانہ بنا رہا ہے۔ جو آئی او ایس کے ورژنز 18.4 سے 18.6.2 پر چل رہے ہیں۔ جو مارچ سے اگست 2025 کے دوران جاری کیے گئے تھے۔
اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں 220 سے 270 ملین ڈیوائسز اب بھی ان پرانے ورژنز پر چل رہی ہیں اور خطرے سے دوچار ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ اسپائی ویئر صارف کے پیغامات، رابطوں، کلاؤڈ فائلز اور حتیٰ کہ کرپٹو کرنسی والیٹس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اور بعض حملوں میں یہ خفیہ طور پر ڈیٹا نکالنے کے بعد خود کو مٹا بھی دیتا ہے۔ جس سے اس کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جدید ہیکنگ ٹولز پہلے زیادہ تر ریاستی سطح کے آپریشنز تک محدود ہوتے تھے۔ تاہم اب ان کا استعمال مالی فائدے کے لیے مجرمانہ گروہ بھی کر رہے ہیں۔ جو عالمی سطح پر موبائل سیکیورٹی کے لیے ایک نیا خطرہ بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عید الفطر سے قبل ملک میں فائیو جی سروس کا آغاز، لائسنس کا اجرا آج ہو گا
ایپل نے ان خامیوں کے لیے سیکیورٹی اپ ڈیٹس جاری کر دی ہیں اور صارفین کو فوری طور پر اپنے آئی فون کو تازہ ترین سافٹ ویئر پر اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔
