جرمنی نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے ہمسایوں، خطے، بحری آزادی کے لیے سنجیدہ خطرہ ہے۔
جرمنی کے دفتر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی حکومت اپنے ہمسایہ ممالک، خطے کے استحکام اور بحری آزادی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے۔
جرمن حکام کے مطابق اس خطرے کو مزید جاری نہیں رہنے دیا جا سکتا کیونکہ اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔جرمنی نے خبردار کیا کہ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ممکنہ ناکہ بندی سے دنیا بھر میں معاشی جھٹکے لگ رہے ہیں۔ اگر تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی غذائی تحفظ بھی شدید خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔
جرمن دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل سے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ ایران میں اپنے فوجی اہداف کب تک حاصل کر سکتے ہیں، تاکہ خطے کے لیے مشترکہ اور پائیدار سیکیورٹی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا سے خفیہ رابطوں کی تردید، جنگی بیانات پر سخت ردعمل
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس جنگ کے دور رس اثرات سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اسی تناظر میں جرمنی نے لبنان کے لیے 188 ملین یورو کے ہنگامی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔
جرمنی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں روس کے جنگی خزانے کو تقویت دے رہی ہیں، اور روس پر پابندیاں نرم کرنا بالکل غلط ہوگا۔ جرمن حکام کے مطابق اس کے برعکس مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
