ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا سے رابطوں کی تردید کر دی۔
انہوں نے امریکا کے ساتھ کسی بھی حالیہ خفیہ رابطے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے آخری رابطہ امریکی حملے سے قبل ہوا تھا، جس کے بعد کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے دعوے عوام اور تیل کے تاجروں کو گمراہ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی رحم نہیں ہوگا جیسے الفاظ طاقت نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن اور بین الاقوامی جنگی قوانین سے ناواقفیت ظاہر کرتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے پیٹ ہیگستھ کو مشورہ دیا کہ وہ ہیگ کنونشن کا جائزہ لیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خارگ جزیرہ پر کسی بھی ملک کی جانب سے حملہ کیا گیا تو ایران اس ملک کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
ایران کی تمام قیادت ختم ہو چکی، جنگ جلد ختم ہو جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ
مزید برآں، عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ پیٹ ہیگستھ، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر جنگی جرائم میں شراکت داری کے خواہاں ہیں۔
