آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 16مارچ کی شب کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا،کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج تباہ کردیئےگئے۔
آپریشن غضب للحق ، پاکستان کی کارروائی میں 415 افغان طالبان ہلاک ہوئے
فضائی حملوں کے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن سے بلند شعلے بڑے بارودی ذخیرے کی نشاندہی کرتے ہیں،ذبیع اللہ مجاہد کا ڈرگ اسپتال کو نشانہ بنانے کا بیان مضحکہ خیز ہے۔
ننگرہار میں چار مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا،ننگرہار میں لاجسٹک، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر بھی تباہ کر دیا گیا۔آپریشن “غضب للحق” کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔
دوسری جانب وزارت اطلاعات و نشریات نے طالبان ترجمان کے بیان کو گمراہ کن قرار دے دیا، وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
کارروائی میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اسلحہ و تکنیکی سامان کے ذخائر کو ٹارگٹ کیا گیا،حملہ نہایت درستگی کے ساتھ کیا گیا تاکہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے،دہشتگردی کی حمایت چھپانے کیلئےڈرگ ری ہیب سینٹر کا جھوٹا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
