اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت حاصل ہونے والی بچت سے موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو 23 ارب روپے سبسڈی دینے کا فیصلہ کر لیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 23 ارب روپے سبسڈی کے طور پر مختص کیے گئے ہیں۔ جس سے تقریباً 3 کروڑ 2 پہیہ اور 3 پہیہ گاڑیوں کے مالکان مستفید ہو سکیں گے۔
حکام کے مطابق سبسڈی مستحق افراد کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر فراہم کی جائے گی۔ جبکہ اس کے طریقہ کار پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے کام شروع کر دیا ہے۔
کمیٹی کے ارکان نے 23 ارب روپے کے ذرائع سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر میں بہتری کا فائدہ تیل کمپنیوں کے بجائے عوام تک پہنچنا چاہیے۔
حکام نے بتایا کہ یہ بچت وزیر اعظم کی ہدایات پر مختلف سرکاری اخراجات میں کمی کے اقدامات کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔ اور آئندہ بھی کفایت شعاری سے حاصل ہونے والی رقم اسی طرح عوام کو سبسڈی کی صورت میں منتقل کی جائے گی۔
اجلاس کے دوران خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے پر بھی بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے، محکمہ موسمیات کا بڑا اعلان
حکام کے مطابق عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر فی بیرل جبکہ پیٹرول کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ پاکستان اپنی تقریباً 70 فیصد پیٹرولیم مصنوعات مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے۔
