ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 102 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
امریکی آئل کمپنیوں ایگزون، شیورون اور کوناکو فِلِپّز کے سی ای اوز نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو توانائی کا عالمی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور لڑائی کے خاتمے کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی معیشت پر منفی اثرات کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنے کے صدر ٹرمپ کے مطالبے پر عالمی سطح پر ابھی تک واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
پیٹرولیم لیوی برقرار، مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کی کوئی ضمانت نہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے لیے خطرہ بننے والی ایران کی صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہوگا۔
