حکومت نے کفایت شعاری اور ایندھن بچت اقدامات کے تحت اعلیٰ سرکاری افسران کی تنخواہوں میں عارضی کٹوتی کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 3 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے افسران کی مجموعی تنخواہ سے دو ماہ کے لیے 5 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ 10 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تنخواہ پر 15 فیصد جبکہ 20 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ سے 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ 30 لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والے افسران کی مجموعی تنخواہ سے 30 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ اس کٹوتی سے حاصل ہونے والی رقم عوامی سہولت اور فلاحی اقدامات کے لیے استعمال کی جائے گی۔
حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اور ایندھن بچت اقدامات کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول آرمڈ فورسز پر ورک فرام ہوم اور چار روزہ ورک ویک کا اطلاق نہیں ہوگا جبکہ ان اداروں کی گاڑیوں پر بھی عمومی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔
مزید ہدایت کی گئی ہے کہ وفاقی ادارے اور صوبائی حکومتیں کفایت شعاری اور ایندھن بچت اقدامات پر ہفتہ وار رپورٹ پیش کریں گی۔ ای آفس کے استعمال کے لیے اے پی این ڈیوائسز چار روز میں فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے جبکہ وزارتیں اور ڈویژنز فوری طور پر اپنی ضرورت کے مطابق اے پی این ڈیوائسز کی طلب وزارت آئی ٹی کو ارسال کریں گی۔
نادرا نے ڈیجیٹل شناختی کارڈ قبول نہ کرنے والے اداروں کو خبردار کر دیا
اس کے علاوہ مالی بچت کو وزیر اعظم آسٹیرٹی فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جس کی سربراہی سیکرٹری خزانہ پاکستان کریں گے۔ صوبائی مالیاتی سیکریٹریز پر مشتمل یہ سب کمیٹی طریقہ کار تیار کرے گی اور آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات اور رپورٹ پیش کرے گی۔
