ڈھاکا میں کھیلے گئے پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان دوسرے ایک روزہ میچ کے دوران پاکستانی بیٹر سلمان آغا غیر معمولی انداز میں رن آؤٹ ہو گئے جس کے بعد میدان میں کچھ دیر کے لیے گرما گرم صورتحال پیدا ہو گئی۔
یہ واقعہ پاکستان کی اننگز کے 39ویں اوور میں پیش آیا جب بنگلا دیش کے کپتان مہدی حسن مرزا گیند بازی کرا رہے تھے۔ اس دوران محمد رضوان نے گیند کو ہلکے ہاتھوں سے واپس نان اسٹرائیکر اینڈ کی جانب کھیل دیا جہاں سلمان آغا کریز سے کافی باہر موجود تھے۔
Crucial moment! Mehidy Hasan Miraz removes Salman Agha with a brilliant run-out. ⚡🏏#BCB #Cricket #Bangladesh #Pakistan #ODI pic.twitter.com/N0inKkZVwz
— Bangladesh Cricket (@BCBtigers) March 13, 2026
ابتدائی طور پر سلمان آغا گیند سے بچنے کے لیے راستہ چھوڑتے دکھائی دیے تاہم اسی دوران مہدی حسن مرزا گیند کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھے اور دونوں کھلاڑیوں کے درمیان ہلکی سی الجھن پیدا ہو گئی۔ اسی لمحے سلمان آغا نے گیند اٹھا کر باؤلر کو دینے کی کوشش کی لیکن مہدی حسن مرزا نے پہلے گیند پر قابو پا لیا۔
بنگلہ دیشی کپتان نے فوراً انڈر آرم تھرو کرتے ہوئے وکٹوں کو نشانہ بنایا اور گیند سیدھی اسٹمپس سے جا ٹکرائی۔ اس موقع پر بنگلا دیش کے کھلاڑیوں نے فوری اپیل کی جس پر آن فیلڈ امپائر تنویر احمد نے معاملہ تھرڈ امپائر کے سپرد کر دیا۔
پاکستان نے دوسرے ون ڈے میں بنگلا دیش کو شکست دیکرسیریز برابرکردی
ری پلے دیکھنے کے بعد تھرڈ امپائر کمار دھرماسینا نے سلمان آغا کو آؤٹ قرار دے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جب وکٹیں گریں تو سلمان آغا کریز سے باہر تھے۔
آؤٹ قرار دیے جانے کے بعد سلمان آغا نے مایوسی اور برہمی کا اظہار کیا اور میدان سے باہر جاتے ہوئے ہاتھوں سے اشارے بھی کیے جبکہ بنگلا دیشی کھلاڑی ان کی جانب بڑھ آئے۔ اس موقع پر محمد رضوان نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان معاملہ ٹھنڈا کرایا۔ یہ سارا واقعہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ختم ہو گیا تاہم اس دوران اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں نے خوب شور مچایا۔

سلمان آغا نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آؤٹ ہونے کے بعد جو کچھ ہوا وہ جذبات کا نتیجہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مہدی حسن مرزا سمجھتے ہیں کہ انہوں نے درست کیا تو وہ ان کی رائے ہے، تاہم وہ خود اس صورتحال کو مختلف انداز میں ہینڈل کرتے۔
سلمان آغا نے 62 گیندوں پر 64 رنز کی اننگز کھیلی اور محمد رضوان کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 109 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ تاہم ان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور ٹیم 231 رنز پر 3 وکٹوں سے گر کر 274 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔
شائقین کرکٹ نے اسے اسپورٹس مین شپ کے منافی قرار دیا ،کئی صارفین کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے رولز کے مطابق یہ آؤٹ ہے لیکن اس میں اسپورٹس مین شپ کا مظاہرہ نظر نہیں آتا۔
His reaction 😭😭pic.twitter.com/BmwNhzIEKj
— Abdullah (@Rflx_56_) March 13, 2026
