امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے پہلے چھ دنوں میں ہی امریکا کو 11.3 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت برداشت کرنا پڑی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اندازہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حکام نے امریکی سینیٹرز کو ایک بند کمرہ بریفنگ کے دوران دیا۔ حکام نے واضح کیا کہ یہ رقم جنگ کی مکمل لاگت کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ ابتدائی اخراجات کا تخمینہ ہے۔
امریکی کانگریس کے متعدد معاونین کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس جلد ہی جنگ کیلئے اضافی فنڈز کی منظوری کے لیے کانگریس سے درخواست کر سکتا ہے۔ بعض حکام کے مطابق یہ درخواست 50 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، تاہم کچھ کا خیال ہے کہ یہ اندازہ بھی کم ہو سکتا ہے۔
اب تک امریکی حکومت نے جنگ کی مجموعی لاگت یا اس کے ممکنہ دورانیے کے بارے میں کوئی باضابطہ تفصیل جاری نہیں کی۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کو کینٹکی کے دورے کے دوران کہا کہ “ہم جنگ جیت چکے ہیں”، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کام مکمل کرنے کیلئے لڑائی جاری رکھے گا۔
یہ جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ اب تک اس تنازع میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر ایرانی اور لبنانی شہری شامل ہیں، جبکہ لڑائی لبنان تک پھیل چکی ہے۔
حکام نے قانون سازوں کو بتایا کہ صرف ابتدائی دو دنوں میں ہی تقریباً 5.6 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ اور گولہ بارود استعمال کیا گیا۔ کانگریس کے ارکان کو خدشہ ہے کہ جنگ کے باعث امریکی فوجی ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دفاعی صنعت پہلے ہی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اسلحہ ساز کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ملاقات کی تاکہ فوجی سامان کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے اقدامات پر بات کی جا سکے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت کے قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام عوام کے سامنے حلف کے تحت گواہی دیں اور واضح کریں کہ جنگ کتنی دیر جاری رہ سکتی ہے اور لڑائی ختم ہونے کے بعد ایران کے حوالے سے امریکی حکمت عملی کیا ہو گی۔
