ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکا مصنوعی اقدامات سے تیل کی قیمت کو کنٹرول نہیں کر سکے گا۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران کی جوابی حملوں کی پالیسی ختم ہو چکی ، اب مسلسل حملےکیے جائیں گے ، 200ڈالر فی بیرل تیل کیلیے تیار رہیں۔
ایران جنگ پر امریکا کی لاگت 10 ارب ڈالر سے تجاوز
دوسری جانب امریکی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ شپنگ اور توانائی کی ترسیل کو جاری رکھنے کیلیے بہت سے آپشنز موجود ہیں ،یہ وہی مواقع ہیں جن کیلیے تیل کے ذخائر استعمال کیے جاتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیل کے ذخائر جاری کرنے کے بارے میں سوچنے کا یہ بہترین وقت ہے ،ٹیکساس ریفائنری اور وینزویلا پیٹرول کی قیمتوں میں کمی لانے میں مدد کریں گے ،خلیجی ریاستوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ طویل مدتی تبدیلی اور امن کیلیے قلیل مدتی خلل ہے۔
نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق ایرانی عہدیدارکا اہم بیان
علاوہ ازیں امریکی نیوی نے آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی فراہم کرنے سے انکارکردیا، شپنگ انڈسٹری نے تحفظ کیلئے امریکی نیوی کو متعدد درخواستیں کیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکی نیوی نے روزانہ کی بنیاد پر درخواستوں کو مسترد کیا،اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے،یاد رہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری جہازوں کو تحفظ دینے کا اعلان کیا تھا۔
