ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اس حق کا استعمال کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ایران کرے گا اور اگر امریکا یا اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لٹرتیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔
کینیڈا میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ، سیکیورٹی سخت کردی گئی
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ اسرائیلی اور امریکی سفیروں کو نکالنے والے ممالک کو آبنائے ہرمز کے استعمال کی پیشکش کی جا سکتی ہے تاکہ علاقائی تجارتی راہیں محفوظ رہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی یہ پالیسی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے اورعالمی سطح پر توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
اس دوران عالمی برادری نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقین سے تناؤ کم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
