پاکستان میں آٹو مارکیٹ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث گاڑی خریدنے کے رجحانات بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔
چند سال پہلے تقریباً 50 لاکھ روپے کے بجٹ میں نئی سیڈان گاڑیاں جیسے ہونڈا سوک یا ٹویوٹا کرولا گرانڈے خریدی جا سکتی تھیں، تاہم 2026 میں یہی بجٹ اب بی سیگمنٹ سیڈان یا چھوٹی کراس اوور ایس یو وی تک محدود ہو چکا ہے۔
زیادہ تر پاکستانی خاندانوں کیلئے اب بنیادی سوال یہی ہوتا ہے کہ وہ سیڈان گاڑی لیں جس میں بہتر آرام اور بڑا ڈگی اسپیس ملتا ہے یا کراس اوور ایس یو وی جس میں زیادہ گراؤنڈ کلیئرنس اور مضبوط ساخت ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں اقسام کی گاڑیوں کے اپنے فوائد ہیں اور انتخاب خریدار کی ضروریات اور طرز زندگی پر منحصر ہوتا ہے۔
ایس یو ویز عام طور پر زیادہ گراؤنڈ کلیئرنس، کشادہ کیبن اور طویل سفر کیلئے بہتر سمجھی جاتی ہیں جبکہ سیڈان گاڑیاں فیول اکانومی، بہتر ہینڈلنگ اور شہری ٹریفک میں آسان ڈرائیونگ کیلئے موزوں ہوتی ہیں۔

سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
یہی وجہ ہے کہ شہروں میں روزانہ سفر کرنے والے افراد سیڈان کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ لمبے سفر یا قدرے خراب سڑکوں پر سفر کرنے والے خریدار کراس اوور یا ایس یو وی کو بہتر سمجھتے ہیں۔
50 لاکھ روپے کے بجٹ میں استعمال شدہ کراس اوور گاڑیوں میں 2015 سے 2016 ماڈل کی ہائبرڈ ہونڈا ویزل خاصی مقبول ہے جو بہترین فیول اکانومی فراہم کرتی ہے۔

اسی طرح 2020 ماڈل کی کیا اسپورٹیج الفا اور 2019 کی ٹویوٹا رائز بھی اس بجٹ میں استعمال شدہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
اگر نئی سیڈان گاڑیوں کی بات کی جائے تو ٹویوٹا یارس 1.3 جی ایل آئی سی وی ٹی اس بجٹ میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس کی ری سیل ویلیو مضبوط ہے۔

ہونڈا سٹی 1.2 سی وی ٹی اپنے کشادہ بوٹ اور بہتر اندرونی معیار کے باعث خریداروں میں مقبول ہے جبکہ چانگان السون 1.5 لومیئر زیادہ فیچرز جیسے سن روف، کروز کنٹرول اور ٹائر پریشر مانیٹرنگ سسٹم کی وجہ سے توجہ حاصل کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق گاڑی خریدتے وقت خریداروں کو صرف قیمت نہیں بلکہ فیول اکانومی، مینٹیننس لاگت، گراؤنڈ کلیئرنس، سیفٹی فیچرز اور ری سیل ویلیو کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان عوامل کو دیکھتے ہوئے خریدار اپنے خاندان کی ضروریات کے مطابق بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔
آٹو ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں 50 لاکھ روپے کے بجٹ میں مکمل طور پر مثالی گاڑی تلاش کرنا مشکل ضرور ہے، تاہم اگر خریدار اپنی ضروریات، سفر کے انداز اور بجٹ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرے تو یہی رقم ایک قابل اعتماد فیملی گاڑی حاصل کرنے کیلئے کافی ثابت ہو سکتی ہے۔
