انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے ملک ہیٹی میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے گینگز کے خلاف کیے گئے دھماکا خیز ڈرون حملوں میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 43 بالغ شہری اور 17 بچے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال مارچ سے ہیٹی کی سیکیورٹی فورسز نے نجی فوجی کمپنی ویکٹس گلوبل کی مدد سے گینگ مخالف کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں میں دھماکا خیز مواد سے لیس چار پروں والے ڈرون استعمال کیے گئے جو اکثر دارالحکومت پورٹ او پرنس کے گنجان آباد علاقوں میں کارروائیاں کرتے رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذکورہ کمپنی امریکا میں قائم ایک نجی فوجی ادارہ ہے جس کی قیادت بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق واچ کے مطابق گزشتہ سال مارچ سے رواں سال 21 جنوری تک ڈرون حملوں میں 1243 افراد ہلاک جبکہ 738 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 49 ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں شہری قرار دیا گیا ہے۔
تنظیم کی امریکا خطے کی ڈائریکٹر جوانیتا گوئبرٹس نے کہا کہ تنظیم نے مہلک طاقت کے غیرقانونی استعمال کے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیٹی کے اتحادی ممالک کو چاہیے کہ وہ اس وقت تک سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون روک دیں جب تک شہریوں کے تحفظ کے لیے واضح حفاظتی اقدامات نہ کیے جائیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں ایک کھیلوں کے مرکز پر ڈرون حملے میں بڑی تعداد میں بچے مارے گئے، جن میں نصف سے زائد کی عمر 3 سے 12 سال کے درمیان تھی۔ اس مقام پر ایک مقامی گینگ بچوں میں تحائف تقسیم کر رہا تھا۔
ہیٹی میں اقوام متحدہ کے دفتر نے بھی ڈرون حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے متعدد واقعات ریکارڈ کیے ہیں، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے جو سڑک پر سامان فروخت کر رہی تھی۔
رپورٹ کے مطابق کینیا، امریکا اور اقوام متحدہ کی حمایت کے باوجود مسلح گینگز نے دارالحکومت سے باہر بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھا لیا ہے۔ ان گینگز کی کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک، دس لاکھ سے زائد بے گھر جبکہ ملکی معیشت شدید متاثر ہو چکی ہے۔
