تہران: ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ جبکہ ایران کی پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر ابراہیم جباری نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران نے ابھی اپنی اصل فوجی طاقت استعمال نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے مشترکہ حملے جنہیں آپریشن رورنگ لائین کا نام دیا گیا۔ میں ایران کے کئی شہروں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس صورتحال میں ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
ابراہیم جباری نے امریکا کو براہ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اب تک ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل پرانے اور بنیادی ذخیرے سے تھے۔ ان کے بقول ایران نے ابھی تک اپنے جدید ترین ہتھیار استعمال نہیں کیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جلد ایسے ہتھیار سامنے آئیں گے جنہیں دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور جو دشمن کے ریڈار سسٹمز کے لیے تقریباً ناقابل شناخت ہوں گے۔ ان کے بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران اپنے جدید ہائپرسونک میزائل اور دیگر انتہائی تیز رفتار ہتھیار محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
ابراہیم جباری ایران کی طاقتور فوجی تنظیم اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے سینئر کمانڈر اور کمانڈر ان چیف کے مشیر ہیں۔ وہ براہ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو رپورٹ کرتے ہیں اور ایرانی فوجی حلقوں میں انہیں انتہائی بااثر شخصیت سمجھا جاتا ہے۔
جباری ماضی میں سپریم لیڈر کی سیکیورٹی کے خصوصی یونٹ سپاہ حفاظت ولی امر کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ جو خامنہ ای کی ذاتی حفاظت اور خفیہ سیکیورٹی انتظامات کا ذمہ دار یونٹ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے سپریم لیڈر کا انتخاب: روس اور چین کا مؤقف سامنے آگیا
ماہرین کے مطابق ابراہیم جباری کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور امریکا کی بمباری سے ایران کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ تاہم ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اب بھی بھرپور جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے اور صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
