اسلام آباد: پاکستان میں جب بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پرانے اسٹاک یا ذخائر پر نئی قیمتیں کیسے لاگو کر دی جاتی ہیں۔ بظاہر یہ معاملہ غیر منصفانہ محسوس ہوتا ہے، تاہم اس کے پیچھے ایک واضح معاشی نظام کارفرما ہوتا ہے جو دنیا کے بیشتر ممالک میں رائج ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت کا تعین کسی مخصوص بحری جہاز سے آنے والے تیل کی قیمت پر نہیں کیا جاتا۔ بلکہ عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی اوسط قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو دیکھ کر قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ عمل بنیادی طور پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی نگرانی میں انجام پاتا ہے۔
قانون کے مطابق آئل کمپنیوں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ ہر وقت کم از کم 20 دن کا پیٹرول اپنے پاس ذخیرہ رکھیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر اس ذخیرے کی حد کو مزید بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ سپلائی میں تعطل نہ آئے۔
اس نظام کے تحت جب کمپنیاں عوام کو پیٹرول فروخت کر رہی ہوتی ہیں تو اسی وقت انہیں اپنے لازمی ذخیرے کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی مارکیٹ سے موجودہ قیمتوں پر مزید تیل بھی خریدنا پڑتا ہے۔ یعنی جب ایک لیٹر پیٹرول فروخت ہوتا ہے تو اسے برقرار رکھنے کے لیے عالمی منڈی سے موجودہ نرخ پر نیا ایک لیٹر خریدنا پڑتا ہے۔
اسی تناظر میں جسے بعض لوگ “انوینٹری پرافٹ” یا ذخیرے پر منافع کہتے ہیں۔ وہ درحقیقت اس عمل میں زیادہ دیر برقرار نہیں رہتا کیونکہ پرانا تیل بیچ کر حاصل ہونے والی رقم مہنگا نیا تیل خریدنے میں استعمال ہو جاتی ہے۔
یہ نظام دونوں سمتوں میں اثر انداز ہوتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو آئل کمپنیوں کو وہ تیل سستا بیچنا پڑتا ہے۔ جو انہوں نے پہلے مہنگے داموں خریدا ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر دسمبر میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 24 روپے فی لیٹر کمی کے بعد ریفائنریوں اور آئل کمپنیوں کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا کیونکہ ان کے پاس موجود لازمی ذخیرہ مہنگے داموں خریدا گیا تھا۔
اسی طرح کے حالات 2022 اور 2023 میں بھی دیکھنے میں آئے جب عالمی قیمتوں میں کمی کے باعث کمپنیوں کو اپنا مہنگا اسٹاک کم قیمت پر فروخت کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں آج پھر بڑا اضافہ
ماہرین کے مطابق یہ دراصل عالمی منڈی کے ساتھ ہم آہنگ رہنے اور سپلائی کو برقرار رکھنے کا ایک قانونی اور عملی نظام ہے۔ جس میں وقتی طور پر منافع یا نقصان دونوں کا امکان موجود رہتا ہے۔
