ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے معاملے پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق اسمبلی آف ایکسپرٹس کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میرباقری نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ارکان کے درمیان تقریباً اکثریتی اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم اس عمل میں ابھی کچھ رکاوٹیں باقی ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسمبلی کے ارکان جلد اجلاس کر کے حتمی فیصلہ کریں گے۔ اس سے قبل ایک سینئر عالم نے کہا تھا کہ نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کے لیے اجلاس ایک دن کے اندر بلایا جا سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ارکان کے درمیان اس بات پر معمولی اختلاف بھی سامنے آیا کہ حتمی فیصلہ باضابطہ بالمشافہ اجلاس میں کیا جائے یا موجودہ حالات کے باعث کسی اور طریقے سے اعلان کیا جائے۔
اسمبلی کے ایک اور رکن آیت اللہ محسن حیدری نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسمبلی کا بالمشافہ اجلاس ممکن نہیں، تاہم ایک امیدوار کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔
ان کے مطابق مرحوم سپریم لیڈر کا مشورہ تھا کہ ایران کا رہنما ایسا ہونا چاہیے جسے دشمن ناپسند کرے، نہ کہ اس کی تعریف کرے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ خامنہ ای کے بیٹے کی بطور سپریم لیڈر تقرری انہیں قابل قبول نہیں ہوگی۔
اسمبلی کے اجلاس کے دوران انہوں نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ ممکنہ طور پر اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ایران کی فوجی طاقت اور حکمران مکمل طور پر ختم نہ ہو جائیں۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب شاید کوئی باقی ہی نہ رہے جو ہتھیار ڈالنے کا اعلان کرے۔”
