واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایران کو سخت حملوں کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ جبکہ منشیات فروش گروہوں کے خاتمے کیلیے ایک نئے فوجی اتحاد کا قیام عمل میں لا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں کے دوران گزشتہ تین دنوں میں ایران کے 42 بحری جہاز تباہ کیے گئے۔ جبکہ ایران کے فضائی دفاعی اور بحری نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایران خطے میں اثر و رسوخ بڑھا کر مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا خطے میں استحکام کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔ اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ امریکا کے پاس جدید اور طاقتور ہتھیار موجود ہیں جن کی بدولت کارروائیاں مؤثر انداز میں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کی بحری طاقت، فضائی دفاع اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچا ہے۔ اگر امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے کارروائی نہ کی ہوتی تو ایران ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ سکتا تھا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے ہمسایہ ممالک پر حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ جبکہ موجودہ صورتحال کے بعد ایران کئی دہائیوں تک کمزور رہ سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کا رویہ تبدیل نہ ہوا تو اس کے مزید علاقوں اور گروہوں کو نشانہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے منشیات فروش گروہوں کے خاتمے کے لیے ایک نئے فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کویت نے خام تیل کی پیداوار اور ریفائننگ میں کمی کا اعلان
امریکی صدر نے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ جاری کشیدگی میں جانی نقصان کم سے کم ہو، تاہم ایران کے طرز عمل کے باعث سخت کارروائی کے آپشنز زیرغور ہیں۔
