متحدہ عرب امارات نے عوامی تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نیا قانون نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت عوامی مقامات، تقریبات اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے سخت حفاظتی قواعد متعارف کرائے گئے ہیں، اماراتی حکام کے مطابق یہ قانون یکم جون سے ملک بھر میں نافذ العمل ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئے قانون کے تحت عوامی مقامات اور بڑے ایونٹس میں محفوظ داخلہ اور اخراج کے واضح انتظامات لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
حکام نے ہدایت کی ہے کہ عوامی مقامات پر مناسب روشنی، گنجائش کی حد اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں لوگوں کو محفوظ طریقے سے باہر نکالا جا سکے۔
دبئی ائیر پورٹ سے پروازیں آج دوپہر سے دوبارہ شروع کی جائیں گی، ایمریٹس ائیر لائن
مزید برآں تقریبات کے منتظمین کو آگ بجھانے کا سامان، فرسٹ ایڈ کی سہولیات اور تربیت یافتہ حفاظتی عملہ تعینات کرنا لازمی ہوگا۔ اسی طرح ہنگامی انخلاء کے واضح منصوبے بھی تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
قانون کے تحت بغیر اجازت دھماکا خیز مواد یا آتش بازی کا سامان رکھنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ خطرناک یا آتش گیر مادوں کے استعمال اور نقل و حمل پر بھی سخت ضابطے نافذ کیے گئے ہیں۔
ساحلی علاقوں میں بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کے مطابق مقررہ اوقات میں ہی تیراکی کی اجازت ہوگی اور شہریوں کو ممنوعہ مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب اماراتی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ ملک کے دفاعی نظام نے آج 15 بیلسٹک میزائل اور 119 ڈرونز کو کامیابی سے روک لیا۔
حکام کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر 500 درہم سے لے کر 10 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایک ہی سال میں دو بار خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ بڑھا کر 20 لاکھ درہم تک کیا جا سکتا ہے۔
