پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد مختلف شہروں کے لیے پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا۔
پبلک ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 300 سے 600 روپے تک اضافہ کر دیا ہے۔ نئے کرایوں کے مطابق لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ 3000 روپے سے بڑھا کر 3260 روپے کر دیا گیا ہے جبکہ لاہور سے پشاورکا کرایہ 3000 سے بڑھا کر 3330 روپے ہو گیا ہے۔
اسی طرح لاہور سے ملتانکا کرایہ 2200 سے بڑھا کر 2400 روپے اور لاہور سے فیصل آباد کا کرایہ 1200 سے بڑھا کر 1400 روپے کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں لاہور سے سکھرکا کرایہ 5550 سے بڑھا کر 6100 روپے، لاہور سے حیدر آباد کا کرایہ 8650 سے بڑھا کر 9200 روپے کر دیا گیا ہے۔ لاہور سے صادق آباد کا کرایہ 3800 سے بڑھا کر 4150 روپے جبکہ لاہور سے ڈیرہ غازی خان کا کرایہ 2340 سے بڑھا کر 2560 روپے مقرر کر دیا گیا ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق خوشی یا غمی کے مواقع پر سفر کرنا بھی امتحان بن چکا ہے اور غریب آدمی کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلائے یا سفر کرے۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ گاڑیوں کے سپیئر پارٹس بھی مہنگے ہو چکے ہیں اگر کرایوں میں اضافہ نہ کریں تو وہ گاڑیاں بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
دوسری جانب پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ملک بھر میں مال بردار کرایے 20 فیصد بڑھانے کا اعلان کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 78 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 68 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے، اس وجہ سے ٹرانسپورٹرز کے اخراجات میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کسی مجبوری کے تحت بڑھائی گئی ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ٹول ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز میں کمی کا اعلان کرے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو کچھ ریلیف حاصل ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ ہر پاکستانی متاثر ہوتا ہے اور قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی کا نیا طوفان آتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا
ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ وفاقی، پنجاب اور سندھ حکومتیں ٹرانسپورٹرز سے کئے گئے معاہدوں پر فوری عملدرآمد کریں اگر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو ملک بھر میں ٹرانسپورٹ بند کر دیں گے۔
