تل ابیب، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ 50 جنگی طیاروں نے تہران میں ایرانی سپریم لیڈر کے زیرزمین بنکر کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی ایران کے حساس مقامات پر حملے کے سلسلے میں کی گئی، جہاں سپریم لیڈر اور دیگر سینئر حکام کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔
اسرائیلی دعوے کے مطابق بنکر کو ایران کے سینئر حکام کی طرف سے شہادت کے بعد بھی استعمال کیا جا رہا تھا، جس کے باعث فوج نے اسے نشانہ بنایا۔
چند ممالک کی ثالثی کی کوششیں شروع، مگر قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ایرانی صدر
اسرائیلی حکام نے کہا کہ یہ کارروائی خطے میں سلامتی کو برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات کو ختم کرنے کے لیے کی گئی۔
اس پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر اس واقعے پر تشویش پائی جا رہی ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے ابھی تک اس دعوے پر سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
