فتنہ الخوارج کی سفاکیت اور بربریت ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی.
خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فتنہ الخوارج کی معصوم لڑکی کو بہیمانہ تشدد کانشانہ بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پرگردش کررہی ہے،لڑکی نے فتنہ الخوارج کی خواتین کے کام کرنے پر پابندی کے پیش نظر والدین کی مدد کےلیےروزگار کی جگہ پرمردانہ لباس پہن رکھا تھا۔
آپریشن غضب للحق، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا خوست میں ایمونیشن ڈپو تباہ
فتنہ الخوارج کے کارندے لڑکی کو اغوا کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور واقعے کی ویڈیو بھی بنائی،لڑکی پر تشدد کی اس ویڈیو کے بعد عوامی حلقوں میں فتنہ الخوارج کیخلاف شدیدغم و غصہ پایا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دردناک واقعہ فتنہ الخوارج کی جانب سے ناقابل تلافی جرم ہے،یہ واقعہ فتنہ الخوارج کی انتہا پسندسوچ کی عکاسی ہے جس میں مذہب کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ معاشرے میں خوف اور دہشت پیدا ہو۔
ایبٹ آباد ، صوابی اور نوشہرہ میں فتنہ الخوارج کے ڈرون حملوں کی کوشش ناکام
علما کرام نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ؛یہ فتنہ الخوارج کا گروہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح کے منافی ہے۔
معصوم لڑکی پر ایسے تشدد اور توہین آمیز رویے کو فتنہ الخوارج کامسخ شدہ چہرہ کہنا درست ہوگا۔
