سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف دائر دس ارب روپے ہرجانہ کیس میں حق دفاع کے معاملے پر سماعت کی۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل راشد حفیظ کے معاون عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ کیس آئندہ ہفتے تک ملتوی کیا جائے کیونکہ راشد حفیظ خود لندن میں ہیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آج درخواست گزار کو سنا جائے گا اور آئندہ سماعت پر دوسرے فریق کو موقع دیا جائے گا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے کئی مرتبہ بانی پی ٹی آئی کو جواب جمع کروانے کے لیے وقت دیا تھا لیکن چار سال بعد دعوے کا جواب جمع کروایا گیا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ اصل مسئلہ بانی پی ٹی آئی کے زخمی اور اسپتال میں ہونے کا تھا، اس وجہ سے بیان حلفی جمع نہ کرایا جا سکا۔
علی ظفر نے مزید کہا کہ حق دفاع کی بحالی شفاف ٹرائل کا بنیادی تقاضا ہے اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اسپتال سے انہیں باہر لانا ممکن نہیں تھا۔
پاکستان آذربائیجان کی قیادت اور عوام کی بھرپور حمایت کرتا ہے، وزیراعظم کا حملوں پر اظہار تشویش
عدالت نے سماعت مزید 12 مارچ تک ملتوی کر دی۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے سول کورٹ کو کارروائی سے روکنے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔
یہ کیس 2017 میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف دائر ہتک عزت کے دعوے سے متعلق ہے، جس میں حق دفاع اور بیان حلفی جمع کروانے کے عمل پر قانونی تنازعہ پیدا ہوا ہے۔
