بھارتی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ ریاست آسام میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں اسکواڈرن اورفلائٹ لیفٹیننٹ ہلاک ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سوخوئی Su-30MKI لڑاکا طیارہ آسام کے شہر جورہاٹ کے ایئر بیس سے تربیتی پرواز کے لیے اڑا تھا۔ پرواز کے کچھ دیر بعد طیارے کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
بھارتی فضائیہ کے مطابق طیارہ جورہاٹ سے تقریباً 60 کلومیٹر دور ضلع کاربی آنگ لونگ کے پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔ حادثے کے بعد سرچ اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
IAF acknowledges the loss of Sqn Ldr Anuj and Flt Lt Purvesh Duragkar, who sustained fatal injuries in the Su-30 crash. All personnel of the IAF express sincere condolences, and stand firmly with the bereaved family in this time of grief.@DefenceMinIndia@SpokespersonMoD… pic.twitter.com/zUtfUJ2ewr
— Indian Air Force (@IAF_MCC) March 6, 2026
رپورٹس کے مطابق حادثے میں دونوں پائلٹ جان کی بازی ہار گئے۔ بھارتی فضائیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔
واضح رہے کہ یہ روسی طیارے سن 2000 میں بھارتی فضائیہ کے بیڑے میں شامل کیے گئے تھے اور یہ طیارے بھارتی فضائیہ میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 30 سال میں بھارتی فضائیہ کو 550 سے زائد فضائی حادثات کا سامنا کرنا پڑا جن میں 150 سے زائد پائلٹس حادثات میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت میں فضائی حادثات ایک تشویشناک رجحان اختیار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف حادثات میں ہلاک ہونے والے بھارتی پائلٹس کی تعداد، کارگل جنگ کے دوران بھارتی فضائیہ کے جانی نقصانات کے مقابلے میں تقریباً 30 گنا زیادہ بتائی جاتی ہے۔
ایران کا بھرپور جوابی وار، اسرائیل پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغ دیے
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حادثات کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں پائلٹس کی ناکافی تربیت، انسانی غلطیاں، طیاروں کی تکنیکی دیکھ بھال میں کمزوریاں اور بعض پرانے جہازوں کا مسلسل استعمال شامل ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان مسائل سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ بھارت کے دفاعی نظام کو اندرونی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ مودی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کے دعوے زمینی حقائق میں نمایاں طور پر نظر نہیں آتے۔
