ملک کے ممتاز مخیر حضرات اور کاروباری رہنماؤں کیلئے ایک دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا ۔ اس تقریب کے انعقاد کا مقصد پاکستان میں دی جانے والی بے پناہ خیرات اور زکوٰۃ کو کس طرح اس انداز میں استعمال کیا جائے کہ وہ وقتی ضروریات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ مستقل قومی ترقی کا ذریعہ بھی بن سکے؟ پر غور وفکر تھا۔تقریب میں عمائدین شہر کی بڑی تعداد شریک ہوئی ۔
اس اہم تقریب کے ذریعے لوگوں کی توجہ اس بنیادی معاملے کی جانب مبذول کرائی گئی کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان فیاض ترین معاشروں میں شمار ہوتا ہے جہاں ہر سال اربوں روپے زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی صورت میں دیئے جاتے ہیں۔ ان رقوم کا بڑا حصہ مستحق افراد کی فوری مددبشمول راشن کی فراہمی، علاج معالجہ اور قدرتی آفات کے متاثرین کی امداد پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ سب اقدامات نہایت ضروری اور قابل تحسین ہیں کیونکہ ملک میں غربت اور عدم تحفظ بھی ایک بڑی حقیقت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف وقتی امداد ایک مضبوط اور خود کفیل قوم کی بنیاد رکھ سکتی ہے؟
اسلامی تاریخ ایک مختلف اور زیادہ وسیع تصور پیش کرتی ہے جس میں زکوٰۃ اور اوقاف کے ذریعے صرف غریبوں کی کفالت ہی نہیں کی جاتی تھی بلکہ علم و تحقیق کے عظیم مراکز بھی قائم کئے جاتے تھے۔ بغداد کا بیت الحکمت اور مصر کی جامعہ الازہر اسی منظم اور بامقصد خیرات کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ ان ہی اداروں میں ایسے علما اور مفکرین پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کے فکری اور سائنسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔
اس دور میں علم کی سرپرستی ایک مستقل قومی حکمت عملی کا حصہ تھی محض اتفاق نہیں۔آج بھی مسلم دنیا میں بے شمار رقوم خیرات کی صورت میں دی جاتی ہیں مگر ان میں سے نہایت قلیل حصہ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق پر صرف ہوتا ہے۔ پاکستان میں جامعات کو سرکاری وسائل محدود پیمانے پر دستیاب ہیں جبکہ مستقل تعلیمی فنڈز ابھی پوری طرح مستحکم نہیں ہو سکے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کئے جائیں گے۔
اسی تناظر میں حبیب یونیورسٹی کی قیادت نے اس نشست میں یہ مؤقف پیش کیا کہ اگر زکوٰۃ کا ایک معقول حصہ باقاعدہ تعلیمی وظائف اور مستقل تعلیمی فنڈز کے لیے مختص کر دیا جائے تو اس کے ثمرات نسل در نسل منتقل ہو سکتے ہیں۔
یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے پچاسی فیصد سے زائد طلبہ کسی نہ کسی صورت مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں، جس کا بڑا حصہ زکوٰۃ اور دینی بنیادوں پر ملنے والی امداد سے فراہم ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کے قیام سے لے کر اب تک کروڑوں ڈالر کی رقم طلبہ کو وظائف اور مالی امداد کی صورت میں دی جا چکی ہے۔یہ طریقہ فوری امداد کی نفی نہیں کرتا بلکہ اسے قوم سازی کے ایک وسیع تر تصور کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس سوچ کے مطابق امداد وقتی سہارا ہے جبکہ تعلیم مستقل طاقت ہے۔
تقریب کا آغاز محمد جنید کے خیر مقدمی اور تعارفی کلمات سے ہوا جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت کاشف حبیب نے حاصل کی بعد ازاں شہباز یاسین ملک نے اپنے خطاب میں مرحوم رفیق ایم حبیب کے وژن “تعلیم تک رسائی سماجی تبدیلی کی بنیاد ہے” کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔

اپنے خطاب میں صدر حبیب یونیورسٹی واصف رضوی نے “دی ٹیل آف اے ٹریلین” کے عنوان سے گفتگو کرتے ہوئے صدیوں پر محیط مسلم سخاوت کی روایت کا جائزہ پیش کیا اور یہ اہم سوال اٹھایا کہ آج اس بے مثال فیاضی کو کس انداز میں منظم کیا جا رہا ہے؟

ان کا مؤقف نہایت واضح تھاکہ پائیدار اور مضبوط معاشرے وہی ہوتے ہیں جو ایسے ادارے قائم کرتے ہیں جو علم کو پروان چڑھائیں، باصلاحیت قیادت تیار کریں اور نئی سوچ و جدت کو فروغ دیں۔ اگر جامعات کو مستحکم اور مستقل مالی وسائل میسر نہ ہوں تو وہ مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں رہ سکتیں اور ان کی ترقی کمزور پڑ جاتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر گل احمد گروپ کے بانی اور چیئرمین بشیر علی محمد نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط ادارے ہی کسی قوم کی اصل دولت ہوتے ہیں، انہیں مستحکم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اس نشست کا بنیادی مقصد یہ پیغام پہنچانا تھا “پاکستان میں سخاوت کی کمی نہیں لیکن اس سخاوت کو ایک ایسی سمت دینے کی ضرورت ہے جو قوم کی مستقل تعمیر کا ذریعہ بنے۔ وقتی امداد آج کی ضرورت پوری کرتی ہے مگر اعلیٰ تعلیم آنے والے کل کی بنیاد رکھتی ہے۔ اگر ہم اپنی خیرات کو دانشمندی اور توازن کے ساتھ منظم کر لیں تو ہم محض مسائل سے نمٹنے والی قوم نہیں بلکہ مستقبل تراشنے والی قوم بن سکتے ہیں۔”تقریب کا اختتام پرتکلف عشائیے پر ہوا ۔
تقریب کی تصویری جھلکیاں:

