وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا اور انڈونیشیا کے سربراہان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔
اسلام آباد سے جاری سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے ملائیشیا کے ہم منصب سے گفتگو کے دوران ایران کے خلاف اسرائیل کے حملوں اور خلیجی ممالک کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پرگہری تشویش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پرکہا کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹراوربین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے، انہوں نے اس بات پرزوردیا کہ تمام ریاستوں کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کا احترام عالمی امن کے لئے ناگزیر ہے۔
قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور
شہباز شریف نے تمام متعلقہ فریقین پرزور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اوراپنے اختلافات کو سفارت کاری اوربات چیت کے ذریعے حل کریں تاکہ خطے میں مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن کی بحالی اور حالات کو معمول پر لانا انتہائی ضروری ہے۔
اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے برقراررکھنے اوراپنے مؤقف کومستقل بنیادوں پر مربوط کرنے پربھی اتفاق کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے ہم منصب کوافغانستان کے تناظرمیں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے اور عالمی سطح پر امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
