نیٹو کے سربراہ مارک روٹے (Mark Rutte) نے کہا ہے کہ ترکیہ میں ہونے والا میزائل حملہ ایک سنگین واقعہ تھا تاہم اس صورتحال میں نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول یعنی آرٹیکل 5 کا اطلاق نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ پر ہونے والا حملہ ناکام بنا دیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیٹو اتحادی مکمل طور پر چوکس اور تیار تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ کیلئے بھی خطرہ بننے کے قریب آ چکا ہے، ایران کی جوہری اورمیزائل صلاحیتوں کے خاتمے کے حوالے سے وہ ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔
یوکرین کی خلیجی ممالک کو دفاعی نظام میں مدد کی پیشکش
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ایران کی موجودہ صورتحال کس طرح ختم ہوگی، تاہم عالمی برادری کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایران مستقبل میں کسی بھی خطے کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
اس دوران ایک اور پیش رفت میں بتایا گیا کہ اسرائیل کے F-35 لڑاکا طیارے نے ایران کے Yak-130 طیارے کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے۔
مارک روٹے کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی صورتحال کے باوجود نیٹو اتحادی یوکرین کی حمایت جاری رکھیں گے اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔
