خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمتوں کے حصول کیلئے نئی ریکروٹمنٹ پالیسی 2026 جاری کر دی ہے جس کے تحت بھرتی کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
عید سے قبل سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے بڑی خوشخبری
نئی پالیسی کے مطابق سرکاری ملازمتوں کیلئے امیدواروں کو دیے جانے والے تجربے کے اضافی نمبر مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں۔سرکاری دستاویز کے مطابق پہلے امیدواروں کو ملازمت کے تجربے کی بنیاد پر اضافی نمبر دیے جاتے تھے، تاہم نئی پالیسی کے تحت اس طریقہ کار کو ختم کر دیا گیا ہے تاکہ تمام امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
اسی طرح نئی ریکروٹمنٹ پالیسی میں ڈویژن کی بنیاد پر اضافی نمبر دینے کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں امیدواروں کو فرسٹ ڈویژن، سیکنڈ ڈویژن یا تھرڈ ڈویژن کی بنیاد پر اضافی نمبرز دیے جاتے تھے لیکن اب اس نظام کو بھی ختم کرتے ہوئے بھرتی کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت بھرتی کے عمل میں تحریری ٹیسٹ اور تعلیمی کارکردگی کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ حکومتی دستاویز کے مطابق امیدواروں کے اکیڈمک مارکس کے لیے 70 نمبر مقرر کیے گئے ہیں جبکہ تحریری ٹیسٹ کے لیے 20 نمبر رکھے گئے ہیں۔اس کے علاوہ انٹرویو کے لیے 10 نمبر مختص کیے گئے ہیں، جس کا مقصد امیدواروں کی شخصیت، اعتماد اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا جائزہ لینا ہے۔
حاضر سروس سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خبر آگئی
حکام کے مطابق نئی ریکروٹمنٹ پالیسی کا مقصد سرکاری اداروں میں بھرتیوں کے عمل کو مزید شفاف، میرٹ پر مبنی اور جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے قابل اور باصلاحیت افراد کو سرکاری ملازمتوں کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔
متعلقہ حکام کے مطابق نئی پالیسی کے اطلاق کے بعد سرکاری اداروں میں بھرتیوں کے طریقہ کار میں یکسانیت آئے گی اور امیدواروں کو صرف تعلیمی قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر مواقع مل سکیں گے۔
لاہور ہائیکورٹ کا سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ
حکومت خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف بھرتی کا عمل زیادہ منصفانہ ہوگا بلکہ میرٹ کو بھی مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔
