ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج کے شمالی حصے میں ایک امریکی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والا راستہ اسلامی جمہوریہ ایران کے کنٹرول میں ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ پر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ امریکا نے ایران کے ساحل سے تقریباً دو ہزار میل دور سمندر میں ایک سنگین کارروائی کی۔
The U.S. has perpetrated an atrocity at sea, 2,000 miles away from Iran’s shores.
Frigate Dena, a guest of India’s Navy carrying almost 130 sailors, was struck in international waters without warning.
Mark my words: The U.S. will come to bitterly regret precedent it has set. pic.twitter.com/cxYiI9BLUk
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 5, 2026
ان کے مطابق ایرانی فریگیٹ IRIS Dena، جو بھارتی بحریہ کی میزبانی میں ایک مشن پر تھا اور جس پر تقریباً 130 ملاح سوار تھے، کو بین الاقوامی پانیوں میں بغیر کسی پیشگی انتباہ کے نشانہ بنایا گیا۔
عباس عراقچی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا کو اس اقدام کے نتائج پر “سخت پچھتاوا ہوگا” اور اس نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی ترسیل اور سمندری تجارت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ دنیا کے ایک بڑے حصے کا تیل اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔
