حکومت پاکستان نے ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی بحران کے تناظر میں ملک بھر میں ورک فرام ہوم نافذ کرنے سمیت ایندھن بچانے کے متعدد اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے بعد تیل کی عالمی سپلائی اور قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس کے باعث حکومت نے ایندھن کے استعمال کو کم رکھنے کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
یہ تجاویز ایک قومی ایکشن پلان کا حصہ ہیں جس پر ایک کابینہ کمیٹی غور کر رہی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کر رہے ہیں جبکہ تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو بھی آئندہ اجلاس میں شرکت کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں ممکنہ اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال نے فریٹ اخراجات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً چار ہفتوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ موجود ہے، تاہم حکومت غیر ضروری استعمال کم کرنے اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
اسی مقصد کے تحت اوگرا نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو عارضی طور پر ریٹیل سپلائی کو ماضی کی فروخت کے مطابق منظم کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران ذخیرہ اندوزی نہ ہو۔
کمیٹی نے خام تیل، ریفائنڈ مصنوعات، ایل این جی اور ایل پی جی کی سپلائی کا بھی جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق طویل المدتی ایل این جی معاہدے برقرار ہیں، تاہم اگر سمندری راستوں میں رکاوٹ جاری رہی تو عالمی لاجسٹکس متاثر ہو سکتی ہے۔
حکومت متبادل توانائی سپلائی راستوں پر بھی غور کر رہی ہے، جن میں بحیرہ احمر اور خلیجی خطے کی بندرگاہیں شامل ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی فوری قلت نہیں، تاہم شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ گھبراہٹ میں خریداری نہ کریں۔
