روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے جڑی توانائی بحران کے باعث اگر قیمتیں بلند رہیں تو روس یورپ کو گیس کی فراہمی روک بھی سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور خطے میں کشیدگی کے بعد تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی توانائی تنصیبات پر حملوں نے عالمی توانائی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے۔
روسی سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی جانب سے روسی گیس اور ایل این جی کی خریداری پر پابندی لگانے کے منصوبے کے بعد ممکن ہے کہ روس کے لیے ابھی یورپ کو گیس فروخت روک دینا زیادہ فائدہ مند ہو۔
انہوں نے کہا کہ نئی منڈیاں کھل رہی ہیں اور روس ان مارکیٹس میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں ہوا بلکہ حکومت اور توانائی کمپنیوں کو اس معاملے پر غور کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔
روس دنیا میں قدرتی گیس کے سب سے بڑے ذخائر رکھتا ہے اور تیل برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، تاہم 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد یورپ نے روسی توانائی پر انحصار کم کرنا شروع کر دیا تھا۔
ایک وقت تھا جب روس یورپی یونین کو تقریباً 40 فیصد پائپ لائن گیس فراہم کرتا تھا، مگر اب یہ حصہ کم ہو کر تقریباً 6 فیصد رہ گیا ہے۔ اس خلا کو ناروے، امریکہ اور الجزائر نے بڑی حد تک پُر کیا ہے۔
صدر پیوٹن نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث خریدار زیادہ قیمت پر گیس خریدنے کو تیار ہیں اور اگر بہتر قیمت دینے والے خریدار سامنے آئے تو روس ان منڈیوں کو ترجیح دے سکتا ہے۔
