اسپین کے وزیراعظم پیڈروسانچیز نے کہا ہے کہ 2003 میں کچھ غیر ذمہ دار رہنماؤں نے اسپین کو غیر قانونی جنگ میں دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں صرف عدم تحفظ اور دکھ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اوردنیا کے مسائل کو بموں یا جنگ کے ذریعے حل کرنے کا وہم ختم ہونا چاہیے۔
وزیراعظم سانچیزنے کہا کہ اسپین کسی بھی ایسی سرگرمی یا اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا جو عالمی سطح پرنقصان دہ ہو۔
امریکا نے ایرانی حملوں میں ہلاک فوجیوں کے نام ظاہر کر دیئے
انہوں نے اسپین کی معاشی، ادارہ جاتی اور اخلاقی طاقت پرمکمل اعتماد کا اظہارکیا اورکہا کہ ملک کی طاقت اور اصولوں کے ساتھ کھڑے رہنا ترجیح ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی اڈے نہ دینے پراسپین سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں ٹرمپ نے اسپین پردباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔
سانچیز کا مؤقف واضح کرتا ہے کہ اسپین اپنے قومی مفادات اور بین الاقوامی اصولوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی دباؤ میں نہیں آئے گا۔
