نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا ہے کہ اتحاد ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔
ترجمان کے مطابق نیٹو کا موقف ہے کہ اس مسئلے کوصرف سفارتی اورسیاسی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے اور کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت سے گریزکیا جائے گا۔
سیکرٹری جنرل نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ نیٹو اپنے رکن ممالک کی سلامتی کے لیے تیار ہے لیکن ایران کے معاملے میں خودمختار فیصلہ اور تنازعہ میں براہِ راست شامل ہونے سے اجتناب کرے گا۔
برطانوی فوجی اڈہ نشانہ، قبرص ہدف نہیں تھا، قبرص حکومت
انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور بین الاقوامی سفارتکاری ہی مؤثر راستہ ہیں۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو کا یہ اعلان خطے میں ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے اور فوجی تصادم سے بچنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر سیاسی ردعمل میں اہم کمی دیکھی گئی ہے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ترک صدر سے رابط کیا، سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ترک صدر کے ساتھ ایران اور سیکیورٹی کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
