آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
بھارت میں ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے، ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی نے ایک خصوصی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے متعدد بار خامنہ ای کو محفوظ مقام یا کسی دوسرے شہر منتقل ہونے کی تجویز دی تھی، تاہم انہوں نے ہر بار اس پیشکش کو مسترد کردیا۔
سی آئی اے نے آیت اللہ خامنہ ای کی لوکیشن معلوم کر کے اسرائیل کو فراہم کی ، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ
ڈاکٹر عبدالماجد کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کا مؤقف واضح تھا کہ وہ اپنی قوم کو خطرے میں چھوڑ کر خود محفوظ مقام پر منتقل نہیں ہوں گے۔ ان کے بقول خامنہ ای نے کہا تھا کہ “پہلے پوری ایرانی قوم کو کسی دوسرے شہر منتقل کیا جائے، پہلے عوام کو زیر زمین بنکرز میں منتقل کیا جائے، اس کے بعد ہی میں کہیں جاؤں گا۔”
نمائندے نے مزید بتایا کہ حملے کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اپنے گھر میں قائم دفتر میں موجود تھے، جہاں اچانک میزائل حملہ کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ حملہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس کے نتیجے میں نہ صرف آیت اللہ خامنہ ای بلکہ ان کے قریبی اہل خانہ بھی شہید ہوئے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر پر میزائل حملہ کردیا
ڈاکٹر عبدالماجد کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں خامنہ ای کی اہلیہ، بہو اور پوتے بھی جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد ملک بھر میں گہرے دکھ اور سوگ کی فضا قائم ہے۔
دوسری جانب اس واقعے کے بعد ایران میں ہائی الرٹ ہے جبکہ عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے اور اپنے رہنما سے عقیدت کا اظہار کر رہی ہے۔
ابوظبی میں ایرانی حملے میں جاں بحق ہونیوالا پاکستانی شہری کون تھا؟ نام اور پتہ سامنے آگیا
تجزیہ کاروں کے مطابق اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے اور صورتحال کسی بھی وقت مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
