نئی بین الاقوامی سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ کھانوں میں زیادہ نمک شامل کرنے کی عادت نہ صرف جسمانی بلکہ ڈپریشن جیسی ذہنی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، نمک کا زیادہ استعمال ڈپریشن اور بے چینی جیسے ذہنی مسائل کے خطرے میں اضافے سے منسلک پایا گیا ہے۔
یہ تحقیق برطانیہ بائیو بینک کے ڈیٹا کی بنیاد پر کی گئی، جس میں 444,787 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ مطالعے کے آغاز پر ان شرکاء میں ڈپریشن یا بے چینی کی کوئی تشخیص موجود نہیں تھی۔
بغیر ورزش 11 ماہ میں 52 کلو وزن کم کرنے والی طالبہ کی حیران کن کہانی
شرکاء سے یہ معلومات حاصل کی گئیں کہ وہ اپنے کھانوں میں نمک کس حد تک شامل کرتے ہیں، جسے چار زمروں میں تقسیم کیا گیا: کبھی نہیں یا بہت کم، کبھی کبھار، عموماً، اور ہمیشہ۔
اہم نتائج
تحقیق کے دوران اوسطاً 14.5 سال تک شرکاء کی صحت کا مشاہدہ کیا گیا، جس کے دوران درج ذیل نتائج سامنے آئے:
- وہ افراد جو ہمیشہ کھانوں میں نمک شامل کرتے تھے، ان میں ڈپریشن اور بے چینی لاحق ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔
- اس کے برعکس، جو افراد کبھی یا بہت کم نمک شامل کرتے تھے، ان میں یہ خطرات نسبتاً کم تھے۔
- دیگر طرزِ زندگی اور طبی عوامل کو مدنظر رکھنے کے باوجود، نمک کی زیادہ مقدار اور ذہنی مسائل کے درمیان تعلق برقرار رہا۔
سائنسی وضاحت اور ماہرین کی رائے
محققین کا کہنا ہے کہ نمک کی زیادتی جسم کے اعصابی اور ہارمونل نظام پر اثر ڈال سکتی ہے، جو ذہنی توازن کو متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نمک کا زیادہ استعمال طویل مدت میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور افسردگی کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین صحت نے اس تحقیق کی روشنی میں سفارش کی ہے کہ عوامی سطح پر نمک کے معتدل استعمال سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں، تاکہ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کے مسائل سے بھی بچاؤ ممکن ہو سکے۔
لیموں پانی پینے سے جسمانی صحت اور جلد پر کیا اثر پڑتا ہے؟
تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خوراک میں نمک کی زیادتی صرف ہائی بلڈ پریشر یا دل کی بیماریوں تک محدود خطرہ نہیں، بلکہ یہ ذہنی صحت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، متوازن غذا اور نمک کا محتاط استعمال ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
