پنجاب حکومت نے صوبے میں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر (PIFTAC) قائم کیا ہے، جو ملک کا پہلا صوبائی انٹیلی جنس مرکز ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نئے مرکز کا دورہ کیا اور اس کے آپریشنل ڈھانچے اور صوبے میں سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ دورے کے دوران انہوں نے متعدد اہم اقدامات کی منظوری دی، جن میں شامل ہیں:
- اینٹی ڈرون یونٹ: جدید فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے صوبے میں پہلی بار تشکیل دیا گیا۔
- سائبر کرائم سیل: ڈیجیٹل اور آن لائن جرائم کے خلاف فوری کارروائی کے لیے عملی طور پر متحرک کیا گیا۔
ملک میں تیز ترین انٹرنیٹ کا آغاز؟ 2 آپریٹرز نے ڈیڑھ کروڑ ڈالر جمع کروا دیئے
مزید برآں، حکومت نے صوبے بھر میں جدید اسکینرز اور مانیٹرنگ سسٹمز کی تنصیب، مسلسل کومبنگ آپریشنز، اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے دیگر اقدامات کی ہدایت دی ہے۔ ڈیپٹی کمشنرز کے لیے حقیقی وقت کا مانیٹرنگ ڈیش بورڈ بھی متعارف کروایا جائے گا تاکہ سیکیورٹی صورتحال کا فوری جائزہ لیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے مصنوعی ذہانت (AI) ہب کے قیام کی بھی ہدایت دی، جس کا مقصد انٹیلی جنس اور سائبر سیکیورٹی کی صلاحیتوں کو مزید بڑھانا ہے۔ مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے میں حکمت عملی کا فوکس اب ردعمل کی بجائے پیشگی کارروائی (preemptive action) ہوگا تاکہ جرائم اور دہشت گردی کو بروقت روکا جا سکے۔
پاکستان نے عالمی اے آئی دوڑ میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پنجاب کو ملک کا محفوظ ترین صوبہ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
